Kia NABI ﷺ aur SHAHEED dono ZINDAH hain ??? MUTASHABIHAT kia hain ??? (Engineer Muhammad Ali Mirza)

Kia NABI ﷺ aur SHAHEED dono ZINDAH hain ??? MUTASHABIHAT kia hain ??? (Engineer Muhammad Ali Mirza)

Today topic is :Kia NABI ﷺ aur SHAHEED dono ZINDAH hain ??? MUTASHABIHAT kia hain ??? (Engineer Muhammad Ali Mirza).

Video Information
Title Kia NABI ﷺ aur SHAHEED dono ZINDAH hain ??? MUTASHABIHAT kia hain ??? (Engineer Muhammad Ali Mirza)
Video Id -KuFH3XR9fk
Video Source https://www.youtube.com/watch?v=-KuFH3XR9fk
Video Image 1678512366 870 hqdefault
Video Views 53804
Video Published 2017-12-15 04:41:16
Video Rating 5.00
Video Duration 00:18:02
Video Author Engineer Muhammad Ali Mirza – Official Channel
Video Likes 1436
Video Dislikes
Video Tags #Kia #NABI #ﷺ #aur #SHAHEED #dono #ZINDAH #hain #MUTASHABIHAT #kia #hain #Engineer #Muhammad #Ali #Mirza
Download Click here

Engineer Muhammad Mirza Ali


Mirza Ali

Muhammad Ali Mirza was born on 4 October 1977 in Jhelum, a city in Punjab, Pakistan. He is a 19th grade mechanical engineer in a government department.

Muhammad Ali Mirza, commonly known as Engineer Muhammad Ali Mirza is a Pakistani Islamic scholar and commentator.

Is engineer Muhammad Ali Mirza Sunni or Shia?

engineer mirza ali

Engineer Muahmmad Ali Mirza is Sunni, Known "Mulim ilmi kitabi".

How do I contact engineer Muhammad Ali?

Engineer Muhammad Ali Mirza

You can call on this phone number, which is "03215900162", and discuss your problem with them.

Who is Mirza Ali of Pakistan?

muhammad mirza ali

Muhammad Ali Mirza, commonly known as Engineer Muhammad Ali Mirza is a Pakistani Islamic scholar and commentator.

What is the age of engineer Muhammad Ali Mirza?

mirza ali

(Engineer Muhammad Ali Mirza) Born: October 4, 1977 (age 46 years) Place: Jhelum Country: Pakistan

What is religion of Engineer Muhammad Ali Mirza?

Engineer Muhammad Ali Mirza is Muslim by religion. He is also known as muslim ilmi kitabi. He says " I,m Muslim Ilmi Kitabi".

What is the Education of Engineer Muhammad Ali Mirza?

He is an engineer by profession. And also a "Pakistani Islamic Scholar". He studied in "University of Engineering and Technology, Taxila".

50 Comments

  1. Rohon ko jismon say Sirf Qiamat Kay Roz milaya jaeiga, Fa izaa nofekha fissoray Faiza hum Minal ajdasay ila rabbehim yansiloon, Lihaza naek
    logon Kee rohon ko toton men dakhil Karna Jo Keh aek Haram prinda hay jaiz nahen, Allah Kareem nay jitna Quran men Bata dia hay wohee sanad hay, Shaheed ko Murda mut Kaho Woh zinda hen lekan tumhen Iss ka shaoor nahen, Dosary jagah yeh bhe farmaya Keh Woh apnay Rab say rizaq bhe diay jatay hen ,aor Jo in Kay pechhay reh gaiy hen Aor Abhy UN say nahen milaya in Kee khaber rakhtay hen,, ,lekan inn Jessy koi Ayat kissy nabi Kay baaray Quran say sabit nahen,

  2. الیاس خان ،۔۔۔،،،،،،،۔۔،
    کائنات کے رب اللہ تعالیٰ اور کائنات کے آخری نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ماننا ہوگی اگر قبر اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہو

    مسلمانوں شرک کی بیماری کا روگ لگنا کینسر سے کروڑوں گناہ زیادہ خطرناک ہے
    کیونکہ کینسر کا مریض قبر میں جاتا ہے اور شرک کا مریض جہنم میں؟

    اللہ تعالیٰ کو تو سب مانتے ہیں اسکی عبادت بھی کرتے ہیں مگر اپنے اپنے عقیدے کے ساتھ ؟
    مسلمانوں میں تین طرح کا عقیدہ رکھنے والے لوگ ہیں

    نمبر 1 یا اللہ مدد پکانے والے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی اطاعت کرنے والے

    نمبر 2 یا علی مدد پکارنے والے اور انکی اولادوں سے فریاد کرنے والے اہلبیت کی چاہت کا اظہار کرنے والے

    نمبر 3 یا غوث المدد کہنے والے اور سینکڑوں مرہوم پیر اولیاء کو دعاؤں میں مدد کے لئے پکارنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاہت کا اظہار کرنے والے

    قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ کیا ارشاد فرما رہا ہے یہ جان لیجئے 👇

    مسلمانوں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید سورہ توبہ آیت 129 میں ارشاد فرمایا کہدو
    مجھے میرا اللہ کافی ہے

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    اللہ کا رنگ اختیار کرو اللہ سے بڑھ کر کسی کا رنگ نہیں اور فرمایا یہ میرے بندوں کو کیا ہوگیا ہے میری طرح اوروں کو چاہنے لگے ہیں بلکہ مجھ سے بڑھ کر اوروں کو چاہتے ہیں اور جو میرے بندے ہیں وہ میری چاہت میں بہت سخت ہوتے ہیں القرآن

    سورہ فاتحہ ہر دعا ہر نماز میں اللہ تعالیٰ نے لازم قرار دیکر حکم دیا
    ایاک نعبدوایاک نستعین
    ترجمہ
    اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں القرآن
    حکم اللہ کا نہ ادھر نہ ادھر
    اللہ کے حکم کا جو انکار کرے وہ کفر کا مرتکب ہوگا ایسے لوگ اپنے ایمان اور آخرت کی خیر منائے

    سورہ نحل آیت 20 ،21
    وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
    اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾
    ترجمہ
    اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالٰی کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے ، بلکہ وہ خود پیدا کیئے ہوئے ہیں
    مردے ہیں زندہ نہیں انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے القرآن
    قیامت کے دن جب سب کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اس کا بھی شعور نہیں رکھتے

    سورہ بنی اسرائیل آیت 55 ، 56
    کہ دیجئے اللہ کے سوا جنھیں تم معبود سمجھ کر پکار رہے ہو نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی بدل سکتے ہیں اور جن کو تم مدد کے لئے پکارتے ہو وہ تو خود اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اپنے رب کی رحمت کے طلب گار رہتے ہیں اور اللہ کے عزاب سے ڈرتے رہتے ہیں القرآن
    سورہ بنی اسرائیل کی ان آیات میں بتوں یا کافروں کا تذکرہ نہیں ہے ان آیات میں اللہ کے نیک بندوں کا ذکر ہے جو اللہ کی رحمت کے طلب گار رہتے ہیں اور اللہ کے عزاب سے ڈرتے رہتے ہیں؟

    سورہ یونس آیت 106 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرے بندوں میرے علاوہ تم کسی کو دعاؤں میں مت پکارو یہ نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں اگر تو ایسا کرے گا تو میرے ہاس ظالموں میں شمار کیا جائے گا اور اگر اوروں کو پکارنے سے باز نہیں آیا تو ظالم کہلائے گا القرآن
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کو دعاؤں میں پکارنے سے روک دیا ہے ہر شرک کے آگے بند باندھ دیا ہے؟
    غیر اللہ کو دعاؤں میں پکارنے کے شرک کا ہر دروازا بند؟
    میرے بندوں میرے علاوہ تم کسی کو دعاؤں میں مت پکارو مجھے پکارو میں مدد کروں گا تمھاری القرآن

    اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل آیت 62 میں ارشاد فرمایا
    بھلا بتاؤ کون ہے دوسرا جو مصیبت اور پریشانی میں گھرے ہوئے شخص کی فریاد اور دعاؤں کو سنتا ہے اور اس سے اسکی مصیبت اور تکلیف کو دور کر دیتا ہے
    ( بیشک اللہ تعالیٰ ہی دعاؤں کو سنتا ہے )
    اور تمھیں زمین پر خلیفہ بناتا ہے
    کیا اللہ کے ساتھ اور آلہ معبود بھی ہے جو تمھاری تکلیف کو سنے اور تمھاری تکلیف کو دور کردے
    لیکن نصیحت بہت کم لوگ حاصل کرتے ہیں القرآن

    کیا اللہ کے ساتھ اور آلہ معبود بھی ہیں جو آپکی تکلیف کو سنے اور آپکی تکلیف کو دور کردے
    مزاروں کی قبروں میں مدفون جن پیر اولیاء کو دعاؤں میں پکارتے ہو وہ الہ معبود ہی تو ہیں جسکا قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے

    اور اللہ تعالیٰ نے سورہ احکاف آیت 5 میں ارشاد فرمایا
    ان سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو ایسوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک انکی پکار نہیں سن سکتے بلکہ اس بات سے ہی لاعلم ہیں کہ پکارنے والے انھیں پکار رہے ہیں جب قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا جن کو یہ پکارتے ہیں ( المدد یا مدد حاجت روا مشکل کشاء) اللہ انسے پوچھے گا اور وہ ان پکارنے والوں کے دشمن ہو جائیں گے اور انکی پرستش سے صاف انکار کر دیں گے القرآن

    اور سورہ نساء آیت 116 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
    بس میرے پاس شرک کے معافی نہیں ہے دیگر گناہ جسکے چاہوں گا معاف کردونگا مشرک اپنے شرک کی گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں القرآن

    اور سورہ مائدہ آیت 72 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
    شرک کرنے والے مشرکوں پر میں جنت حرام کردونگا ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہے القرآن

    اور اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ آیت 17 میں مشرکوں کو مسجدیں آباد کرنے سے بھی روک دیا ہے اور انکے تمام اعمال شرک کی وجہ سے ضائع کر دیئے گئے القرآن

    اور اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف آیت 106 میں ارشاد فرمایا
    تم میں بہت لوگ باوجود اللہ پر ایمان لانے کے مشرک ہیں القرآن
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا مسلمانوں میں مشرک گھسے ہوئے ہیں

    سونے سے پہلے وتر کی نماز جس میں دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے دعائے قنوت کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا اے اللہ ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

    اور سورہ الاعراف آیت نمبر 194 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
    جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے ہی جیسے بندے ہیں پھر انھیں پکارو وہ اسکا جواب دیں اگر تم سچے ہو القرآن

    اور اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے خلاف مزاروں کی قبروں میں مدفون پیر اولیاء کو دعاؤں میں پکارنے والوں
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین فتوے ارشاد فرمائے ہیں
    جو میری اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے میری شریعت پر عمل نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں وہی تو مشرک ہیں وہی تو ظالم ہیں وہی تو گمراہ ہیں القرآن سورہ مائدہ رکوع 7
    تم نے کسے کافر مشرک سمجھا ہوا ہے؟

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی دعاؤں میں پکارتا رہا وہ جہنم میں داخل ہوگا
    بخاری شریف کتاب التفسیر حدیث نمبر 4497 ۔۔۔۔۔

  3. JazakAllah Sir..for this amazing explanation..nobody could answer my questions the way you did..logical and with references.Allah SWT aap ko is ka ajar dey..please continue guiding us like this.

  4. Mehraj ki rat me nabi ne masjid e aqsa me tamam nabiyo ko namaz pdhai adam se lekr isa tk .. or namaz zindo r farz h murdo pr ni h … Nabi ne zindo ko namaz pdhai murdo ko nhi .. yhi sabot h k nabi zinda … Or muqtadi zinda h to imam ka alam kya hoga

  5. Islaam Aur Mohammed saw k baad Na koi Nabi ayega Na koi Deen isliye islaam bacha Hua Hai wrna islaam k log to apne Nabi ki ibadat itni jaldi start krte jitna waqt isayo ne bhi nhi Liya Jesus ko khuda manne me

  6. Har wo maulana ummat ko dhoka de rha hai jo kisi topic par us topic se Jude sare hadees Na rakhe Aur bas utna hadees rakhe jisse uske hisab se Matlab nikalte ho Mohammed saw ki wafat k waqt ki kuch hadees milti Hai jisme Umar RA ne apni talwar nikal di Aur kaha jisne bhi kaha Mohammed saw ki maut ho gayi uski garden uda denge Aur fir bau bankar Siddique ne member par char Kar Quran ki kuch ayat tilawat ki jiske baad Umar RA ne apni talwar wapas miyan me rakh di Aur kaha k ye ayat to humne hamare Nabi se suni thi Aur hamare jahen se utar gayi Aur aisa lagta Hai ye ayat hamare liye hi utri ho wo hadees is topic par bahot imp Hai usko rakhna jaruri Hai wala pagdi wale man Gaye 😅🤣🤣🤣😜😜

  7. Saheed Kaun hota hai jo Allah ki rah me jinda Bach k aye ya jo katal Jaye?
    Ab kitne bhi bade topi baaj Hai ye pagdi wala lekin is baat par topi nhi fira sakta Hai k saheed zinda Hai Allah ne unhe murda Kahne se mana Kiya q k murda lafz ek nichke darje ka lafz Hai Aur unki rooh Sab parinde me Hai Aur wo jannat me rijk pa rhe Hai sahi hai lekin unka jisam me rooh nhi hai to yha beech ka maukaf rakhna chahiye

  8. اسلام وعلیکم بھاٹی جان آپ آسان طریقہ سے سمجھا دیں. کہ نبی صل اللہ علیہ والہ و سلم مدینہ والی قبر میں روح اور جسم سے زندہ نہیں
    اورروح مبارک عالم برزخ میں مکام وسیلہ پر. ہیں.بلکہ مدینہ والی قبر میں جسمم بارک

  9. Salam ho Rasool e kaayenaat Muhammad SAWW or unki olaadh e At'har par Maula Ali AS par Maula Abu bakar AS par Maula umer AS par maula usman AS par or saaray Sahaba par jo Aashiq e Ahl e bait AS the

  10. آپ نے اچھی طرح سے مسئلہ واضح کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگ نبی کو اس دنیا اور اس قبر میں زندہ سمجھتے ہیں یہاں تک کہ ان کو حاضر اور ناظرہ کا عقیدہ رکھتے ہیں اللہ ان کو ہدایت دے

  11. اسلامی عقیدہ:-

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے پاس (جنت الفردوس) میں زندہ ہیں دنیا میں (زمینی قبر) کے اندر نہیں:-

    القرآن👇👇👇

    "اپنے رب کے پاس زندہ ہیں" ( سور آل عمرآن 169)

    الحدیث👇👇👇

    " بخاری کی ایک طویل روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جبرائیل و میکائیل علیہ السلام نے آسمان پر لے جا کر مختلف مقامات کی سیر کروائی۔
    وہاں آپ نے اپنے سر کے اوپر بادل جیسی معلق چیز کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ آپ کا مقام ہے۔ آپ نے اس مقام میں جانا چاہا تو کہا گیا کہ آپ کی عمر کا کچھ
    حصہ باقی ہے جس کو آپ نے پورا نہیں کیا گیا جب آپ پور کر لیں گے اپنے اس مقام میں آجائیں گے۔ اور اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ باقی حصہ پورا کر کے جنت الفردوس کے اعلی مقام پر پہنچ کر اپنے رفیق اعلی سے جا ملے ہیں".
    (مدینے والی قبر میں نہیں ہیں)

    حوالہ نمبر 1👇👇👇

    "صحیح بخاری جلد نمبر 1 کتاب الجنائز باب 877
    عن سمرہ بن جندب قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم
    حدیث نمبر 1386 صفحہ نمبر 444"

    حوالہ نمبر 2 👇👇👇

    صحیح بخاری
    جلد نمبر 3
    کتاب الدعوات
    باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں دعا کرنا یا اللہ
    میں بلند رفیقوں( ملائکہ اور انبیاء) کے ساتھ رہنا
    چاہتا ہوں"
    حدیث نمبر 761
    صفحہ نمبر 381

    حوالہ نمبر 3 👇👇👇

    صحیح بخاری
    جلد 2
    کتاب المغازی
    باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم
    حدیث نمبر 1574
    صفحہ نمبر 542

    سوچیں:-

    شہداء اللہ کے پاس جنت الفردوس میں زندہ ہیں. نبی علیہ السلام کا مقام شہداء سے بھی افضل تر افضل ہے.
    کیا نبی علیہ السلام اللہ کے پاس جنت الفردوس میں
    زندہ نہیں ہونگے؟؟؟

    الحدیث👇👇👇

    "عبداللہ بن عباس رضہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضہ سے کہا کہ
    جب تمہارے بھائی احد کے دن شہادت سے ہمکنار ہوئے
    تو اللہ تعالی نے ان کی روحوں کو اڑنے والے سبز قالبوں
    میں ڈال دیا اور انہوں نے جنت کی نہروں پر آنا جانا
    شروع کر دیا۔ وہ جنت کے پھر کھانے لگے اور عرش کے
    نیچے لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں آرام کرنے لگے۔
    جب اس طرح انہوں نے کھانے پینے اور آرام کرنے کی
    آسائشیں مہیا پائیں تو آپس میں کہا کہ کون دنیا میں
    ہمارے بھائیوں تک ہمارے بارے میں یہ بات پہنچائے
    گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بےرغبتی
    نہ برتیں اور جہاد کے وقت کم ہمتی نہ دکھائیں؟
    پس اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں یہ
    بات پہنچادوں گا۔ پھر مالک نے سورہ آل عمران کی یہ
    آیتیں نازل کیں کہ:
    "جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ان کو مردہ
    مت کہو وہ حقیقت میں زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس
    رزق پارہے ہیں"۔
    (مشکوتہ شریف جلد نمبر 2 کتاب الجہاد باب
    شہداء احد کے بارے میں بشارے حدیث نمبر 3676)

    👇👇👇👇👇
    الحدیث:-

    "حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
    حارثہ ابن سراقہ رضہ جنگ بدر کے دن شہید ہوگئے اور
    وہ ابھی نوجوان ہی تھے۔ ان کی ماں نبی صلی اللہ علیہ
    وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے
    کہ حارث میرے لئے کیا تھا! اگر وہ جنت میں ہے تو صبر
    کروں گی اور ثواب جان کر اور اگر کسی دوسری جگہ
    ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا
    ہے؟ کیا تم سمجھتی ہو کہ جنت ایک ہی ہے؟ جنتوں کی
    تعداد کی تو کثرت یے
    اور تیرا بیٹا تو جنت الفردوس میں یے"۔

    "صحیح بخاری جلد نمبر 2 کتاب المغازی صفحہ نمبر 567"

    غور فرمائیں:۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت،
    " اپنے رب کے پاس زندہ ہیں"
    کے مطابق فرمایا کہ
    حارثہ ابن سراقہ جنت الفردوس میں زندہ ہے۔

    اگر بلفرض قرآن کی آیت یوں ہوتی👇👇👇
    "اپنی قبر میں زندہ ہیں"۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی یوں نہ کہتے کہ
    تہمارا بیٹا جنت الفردوس میں ہے بلکہ یوں کہتے
    تمہارا بیٹا حارث تو اسی دنیا میں اپنی قبر میں زندہ ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے جنت الفردوس
    کہا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات قرآن
    پاک کے مطابق ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
    قرآن کے خلاف کوئی بات بول ہی نہیں سکتے

    القرآن👇👇👇👇👇👇👇

    "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ مت
    کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں"
    ( البقرہ 154)

    اللہ پاک نے اس آیت میں واضح طور پر فرما دیا کہ شہداء
    کو دنیاوی حیات پر قیاس نہ کیا جائے۔ ان کو ایک
    خاص حیات دی گئی ہے جس کا ہمیں شعور نہیں ہے۔
    اگر یہ حیات دنیا میں (زمینی قبر) میں ہوتی، ہمیں اس کا شعور لازمی ہوتا اور اللہ پاک کو نفی کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

    پس ثابت ہوا کہ شہداء کی یہ حیات عرش الرحمن
    کے نیچے جنت الفردوس میں برزخی حیات ہے نہ کہ دنیا میں(زمینی قبروں کے اندر) دنیاوی حیات.

    اور,

    یہی برزخی حیات عرش الرحمن کے نیچے جنت الفردوس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہے نہ کہ دنیا میں
    (مدینے والی قبر کے اندر) دنیاوی حیات.

  12. اسلامی عقیدہ:-

    الانبیاء علیہ السلام اپنے رب کے پاس (جنت الفردوس) میں زندہ ہیں دنیا میں ( زمینی قبروں) کے اندر نہیں:-

    القرآن:- " اپنے رب کے پاس زندہ ہیں" ( آل عمرآن 169)

    سوچیں:-

    شہداء اپنے رب کے پاس جنت الفردوس میں زندہ ہیں.
    الانبیاء علیہ السلام کا مقام شہداء سے بھی افضل تر افضل ہے.

    کیا الانبیاء علیہ السلام اپنے رب کے پاس جنت الفردوس میں زندہ نہیں ہونگے؟؟؟

    الحدیث👇👇👇

    "عبداللہ بن عباس رضہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضہ سے کہا کہ
    جب تمہارے بھائی احد کے دن شہادت سے ہمکنار ہوئے
    تو اللہ تعالی نے ان کی روحوں کو اڑنے والے سبز قالبوں
    میں ڈال دیا اور انہوں نے جنت کی نہروں پر آنا جانا
    شروع کر دیا۔ وہ جنت کے پھر کھانے لگے اور عرش کے
    نیچے لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں آرام کرنے لگے۔
    جب اس طرح انہوں نے کھانے پینے اور آرام کرنے کی
    آسائشیں مہیا پائیں تو آپس میں کہا کہ کون دنیا میں
    ہمارے بھائیوں تک ہمارے بارے میں یہ بات پہنچائے
    گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بےرغبتی
    نہ برتیں اور جہاد کے وقت کم ہمتی نہ دکھائیں؟
    پس اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں یہ
    بات پہنچادوں گا۔ پھر مالک نے سورہ آل عمران کی یہ
    آیتیں نازل کیں کہ:
    "جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ان کو مردہ
    مت کہو وہ حقیقت میں زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس
    رزق پارہے ہیں"۔
    (مشکوتہ شریف جلد نمبر 2 کتاب الجہاد باب
    شہداء احد کے بارے میں بشارے حدیث نمبر 3676)

    القرآن👇👇👇👇👇👇👇

    "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ مت
    کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں"
    ( البقرہ 154)

    اللہ پاک نے اس آیت میں واضح طور پر فرما دیا کہ شہداء
    کو دنیاوی حیات پر قیاس نہ کیا جائے۔ ان کو ایک
    خاص حیات دی گئی ہے جس کا ہمیں شعور نہیں ہے۔
    اگر یہ حیات دنیا میں (زمینی قبر) میں ہوتی، ہمیں اس کا شعور لازمی ہوتا اور اللہ پاک کو نفی کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

    پس ثابت ہوا کہ شہداء کی یہ حیات عرش الرحمن
    کے نیچے جنت الفردوس میں برزخی حیات ہے نہ کہ دنیا میں(زمینی قبروں کے اندر) دنیاوی حیات.

    اور,

    یہی برزخی حیات عرش الرحمن کے نیچے جنت الفردوس میں الانبیاء علیہ السلام کی بھی ہے نہ کہ دنیا میں
    (زمینی قبروں کے اندر) دنیاوی حیات

  13. اسلامی عقیدہ:-

    شہید اللہ کے پاس (جنت الفردوس) میں زندہ ہے دنیا میں (زمینی قبر) کے اندر نہیں:-

    القرآن:- " اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق پا رہے ہیں" ( آل عمرآن 169)

    👇👇👇👇👇
    الحدیث:-

    "حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
    حارثہ ابن سراقہ رضہ جنگ بدر کے دن شہید ہوگئے اور
    وہ ابھی نوجوان ہی تھے۔ ان کی ماں نبی صلی اللہ علیہ
    وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے
    کہ حارث میرے لئے کیا تھا! اگر وہ جنت میں ہے تو صبر
    کروں گی اور ثواب جان کر اور اگر کسی دوسری جگہ
    ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا
    ہے؟ کیا تم سمجھتی ہو کہ جنت ایک ہی ہے؟ جنتوں کی
    تعداد کی تو کثرت یے
    اور تیرا بیٹا تو جنت الفردوس میں یے"۔

    "صحیح بخاری جلد نمبر 2 کتاب المغازی صفحہ نمبر 567"

    غور فرمائیں:۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت،
    " اپنے رب کے پاس زندہ ہیں"
    کے مطابق فرمایا کہ
    حارثہ ابن سراقہ جنت الفردوس میں زندہ ہے۔

    اگر بلفرض قرآن کی آیت یوں ہوتی👇👇👇
    "اپنی قبر میں زندہ ہیں"۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی یوں نہ کہتے کہ
    تہمارا بیٹا جنت الفردوس میں ہے بلکہ یوں کہتے
    تمہارا بیٹا حارث تو اسی دنیا میں اپنی قبر میں زندہ ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے جنت الفردوس
    کہا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات قرآن
    پاک کے مطابق ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
    قرآن کے خلاف کوئی بات بول ہی نہیں سکتے.

    القرآن👇👇👇👇👇👇

    "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ مت
    کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں"
    ( البقرہ 154)

    اللہ پاک نے اس آیت میں واضح طور پر فرما دیا کہ شہداء
    کو دنیاوی حیات پر قیاس نہ کیا جائے۔ ان کو ایک
    خاص حیات دی گئی ہے جس کا ہمیں شعور نہیں ہے۔
    اگر یہ حیات دنیا میں (زمینی قبر) میں ہوتی، ہمیں اس کا شعور لازمی ہوتا اور اللہ پاک کو نفی کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

    پس ثابت ہوا کہ شہداء کی یہ حیات عرش الرحمن
    کے نیچے جنت الفردوس میں برزخی حیات ہے نہ کہ دنیا میں(زمینی قبروں کے اندر) دنیاوی حیات.

  14. عقیدہ شہید کی حیات:-

    شہداء اللہ کے پاس جنت میں زندہ ہیں دنیا میں (زمینی قبر) کے اندر نہیں:-

    القرآن👇👇👇

    "اپنے رب کے پاس زندہ ہیں"(آل عمرآن 169)

    الحدیث نمبر 1👇👇👇

    "عبداللہ بن عباس رضہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضہ سے کہا کہ
    جب تمہارے بھائی احد کے دن شہادت سے ہمکنار ہوئے
    تو اللہ تعالی نے ان کی روحوں کو اڑنے والے سبز قالبوں
    میں ڈال دیا اور انہوں نے جنت کی نہروں پر آنا جانا
    شروع کر دیا۔ وہ جنت کے پھر کھانے لگے اور عرش کے
    نیچے لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں آرام کرنے لگے۔
    جب اس طرح انہوں نے کھانے پینے اور آرام کرنے کی
    آسائشیں مہیا پائیں تو آپس میں کہا کہ کون دنیا میں
    ہمارے بھائیوں تک ہمارے بارے میں یہ بات پہنچائے
    گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بےرغبتی
    نہ برتیں اور جہاد کے وقت کم ہمتی نہ دکھائیں؟
    پس اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں یہ
    بات پہنچادوں گا۔ پھر مالک نے سورہ آل عمران کی یہ
    آیتیں نازل کیں کہ:
    "جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ان کو مردہ
    مت کہو وہ حقیقت میں زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس
    رزق پارہے ہیں"۔
    (مشکوتہ شریف جلد نمبر 2 کتاب الجہاد باب
    شہداء احد کے بارے میں بشارے حدیث نمبر 3676)

    الحدیث نمبر 2👇👇👇

    " مسروق رضہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ رضہ سے
    اس آیت کے بارے میں سوال کیا:

    "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو
    وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں"۔

    تو انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    شہدا کی روحیں سر سبز پرندوں کے جوف میں ہوتی ہیں۔
    ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی
    ہیں۔ شہدا کی روحیں جنت میں جہاں چاہیں گھمتی پھرتی
    ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں۔ ان کا رب ان
    کی طرف متوجہ ہو کر فرماتا ہے۔ تمہیں کسی چیز کی
    خواہش ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش
    کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے۔
    جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں
    چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کرتے ییں کہ آپ ہماری روحیں
    ہمارے جسموں میں لوٹا دیں۔ یہاں تک کہ ہم تیرے راستے
    میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں۔ جب اللہ دیکھتا ہے
    کہ انہیں اب کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا جاتا
    ہے"۔

    "صحیح مسلم جلد 3 کتاب الامارتہ باب
    بیان ان ارواح الشہداء فی الجنتہ حدیث نمبر 365"

    غور👈 شہداء نے کہا کہ ہماری روحوں کو سر سبز پرندوں
    کے جوف سے نکال کر اپنے بدن میں ڈال دے یہاں تک کہ…..

    بدن 👈 جو دنیا میں زمینی قبروں میں ہیں۔

    اللہ پاک نے ان کی بات نہیں مانی اور ان سے پوچھنا
    چھوڑ دیا

    الحدیث نمبر 3👇👇👇

    "جابر رضہ روایت کرتے ہیں کہ میری نبی صلی اللہ علیہ
    وسلم نے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ جابر کیا بات ہے۔
    میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض
    کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد شہید
    ہوگئے ہیں اور قرض عیال چھوڑ گئے۔ آپ نے فرمایا کیا میں
    تمہیں اس چیز کی خوشخبری نہ سنائوں جس کے ساتھ
    اللہ تعالی تمہارے والد سے ملاقات کی عرض کیا کیوں
    نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے والد کے علاوہ ہر شخص
    سے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی لیکن تمہارے والد
    کو زندہ کر کے ان سے بالمشافہ گفتگو کی اور فرمایا اے
    میرے بندے تمنا کر۔ تو جس چیز کی تمنا کرے گا میں
    تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں قتل ہو
    جائوں۔
    اللہ تعالی نے فرمایا فیصلہ ہو چکا کہ کوئی دنیا میں واپس
    نہیں جائے گا۔
    راوی کہتے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی( جو لوگ اللہ کی راہ
    میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں
    اور اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں)۔

    (جامع ترمذی جلد نمبر 2 باب قرآن کی تفسیر کا بیان
    سورہ آل عمران کے متعلق حدیث نمبر 927 صفحہ 865)

    حدیث پر غور فرمائیں👇👇👇

    اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق پا رہے ہیں:۔

    رب عرش پر ہے👈 "تمہارا رب اللہ ہے جس نے چھ دن
    میں آسمانوں اور زمین کو بنایا اور پھر عرش پر مستوی ہو
    گیا" ( سورہ الاعراف/ یونس 54)

    جابر رضہ کے شہید والد عبداللہ نے عرش الہی کے نیچے اللہ پاک سے گفتگو کی اور التجا کی کہ،

    "اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ
    میں دوبارہ قتل ہو جائوں"

    غور👈 دوبارہ زندہ کر دے یعنی میری روح کو قبر کے اندر
    موجود جسم کے اندر لوٹا دے تاکہ میں زندہ ہو کر تیری
    راہ میں دوبارہ قتل کئے جائوں۔۔۔۔

    اللہ پاک کا جواب👈 کوئی دنیا میں واپس نہیں جائے گا۔

    کوئی دنیا میں 👇👇👇

    چاہے شہید ہو, نبی ہو, مومن ہو کسی کی بھی روح نہ ہی دنیا میں جائے گی اور نہ ہی جسم میں لوٹائ جائے گی.

    پس ثابت ہو گیا کہ شہید کا جسم دنیا میں زمینی قبر کے اندر
    مردہ ہے۔ اگر شہید کا جسم قبر کے اندر زندہ ہوتا پھر
    جابر رضہ کے والد عبداللہ یہ نہ کہتے کہ اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے……

    القرآن👇👇👇👇👇👇👇

    "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ مت
    کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں"
    ( البقرہ 154)

    اللہ پاک نے اس آیت میں واضح طور پر فرما دیا کہ شہداء
    کو دنیاوی حیات پر قیاس نہ کیا جائے۔ ان کو ایک
    خاص حیات دی گئی ہے جس کا ہمیں شعور نہیں ہے۔
    اگر یہ حیات دنیا میں (زمینی قبر) میں ہوتی، ہمیں اس کا شعور
    لازمی ہوتا اور اللہ پاک کو نفی کرنے کی ضرورت ہی نہ
    پڑتی۔

    پس ثابت ہوا کہ شہداء کی یہ حیات عرش الرحمن کے
    نیچے جنت الفردوس میں برزخی حیات ہے نہ کہ دنیا
    میں زمینی (قبروں کے اندر) دنیاوی حیات.

  15. علی بھائ کا نعرہ,

    "نہ میں وہابی نہ میں بابی میں ہوں مسلم علمی کتابی"

    لیکن اس ویڈیو میں علی بھائ قرآن و سنت کے مقابلے میں ایک بابے(امام بیہقی) کو نہ صرف کریڈیٹ پیش کر رہے ہیں بلکہ ان کو سپوٹ بھی کر رہے ہیں. وہ بابا جس نے قرآن و سنت کے خلاف اپنی کتاب میں عقیدہ پیش کیا.

    امام بیہقی کے الفاظ جو ان کی کتاب "حیات النبیاء فی قبورھم" میں ہیں,

    "اور یہ صحیح ہے کہ بےشک اللہ نے انبیاء علیہ السلام پر
    ان کی روحیں قبض کرنے کے بعد لوٹا دی ہیں اور وہ اپنے
    پروردگار کے نزدیک شہداء کی طرح زندہ ہیں"

    امام بیہقی اپنی دوسری کتاب میں مزید لکھتے ہیں,

    "اور انبیاء علیہ السلام کی روحیں قبض کرنے کے بعد ان کی طرف لوٹا دی جاتی ہیں پس وہ شہداء کی طرح اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں.

    آئیے امام بیہقی کے ان الفاظ کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر رکھ کر چیک کرتے ہیں.

    ملا خطہ فرماءئں. :-

    القرآن👇👇👇

    ’’ اور وہ ( اللہ ) پوری طرح قادر ہے اپنے بندوں پر، اور بھیجتا ہےتم پر نگراں ( فرشتے )، یہاں تک کہ تم میں کسی ایک موت کا وقت آجاتا ہے تو اسے قبض کرلیتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے اور وہ کوئی غلطی نہیں کرتے ۔ پھر ( یہ روح ) پلٹائے جاتی ہیں اللہ کی طرف جو انکا حقیقی مالک ہے، سن لو کہ حکم اسی کاہے وہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘۔ ( سورہ انعام، آیت ۶۱۔۶۲ )

    سورہ الانعام کی آیت نمبر 42 41 کے مطابق:

    جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے اللہ کے فرشتے روح قبض کر لیتے ہیں اور پھر اس روح کو اللہ پاک کی طرف پہنچا دیا جاتا ہے.

    مزید:-

    القرآن👇👇👇

    ’’ اللہ روحوں کو قبض کر لیتا ہے عین موت کے وقت، جو نہیں مرے ان کی نیند میں، پھر روک لیتا اس کی روح جس پر موت کا فیصلہ ہوجائے"…… (سورہ الزمر 42)

    سورہ الزمر کی آیت نمبر 42 مطابق:-

    جس کی موت ہو جاتی ہے وہ روح اللہ کے پاس پہنچ جاتی ہے. اللہ فرماتا ہے کہ ہم اس کی روح کو روک لیتے ہیں. نہ
    ہی دنیا میں واپس بھیجتے ہیں اور نہ ہی جسم میں لوٹاتے
    ہیں.

    سورہ الزمر آیت نمبر 42 کی مزید وضاحت احادیث میں
    اس طرح ملتی ہے کہ:-

    الحدیث نمبر 1👇👇👇

    " مسروق رضہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ رضہ سے
    اس آیت کے بارے میں سوال کیا:

    "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو
    وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں"۔

    تو انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    شہدا کی روحیں سر سبز پرندوں کے جوف میں ہوتی ہیں۔
    ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی
    ہیں۔ شہدا کی روحیں جنت میں جہاں چاہیں گھمتی پھرتی
    ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں۔ ان کا رب ان
    کی طرف متوجہ ہو کر فرماتا ہے۔ تمہیں کسی چیز کی
    خواہش ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش
    کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے۔
    جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں
    چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کرتے ییں کہ آپ ہماری روحیں
    ہمارے جسموں میں لوٹا دیں۔ یہاں تک کہ ہم تیرے راستے
    میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں۔ جب اللہ دیکھتا ہے
    کہ انہیں اب کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا جاتا
    ہے"۔

    "صحیح مسلم جلد 3 کتاب الامارتہ باب
    بیان ان ارواح الشہداء فی الجنتہ حدیث نمبر 365"

    غور👈 شہداء نے کہا کہ ہماری روحوں کو سر سبز پرندوں
    کے جوف سے نکال کر اپنے بدن میں ڈال دے یہاں تک کہ…..

    بدن 👈 جو دنیا میں زمینی قبروں میں ہیں۔

    اللہ پاک نے ان کی بات نہیں مانی اور ان سے پوچھنا
    چھوڑ دیا……….

    الحدیث نمبر 2👇👇👇

    "جابر رضہ روایت کرتے ہیں کہ میری نبی صلی اللہ علیہ
    وسلم نے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ جابر کیا بات ہے۔
    میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض
    کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد شہید
    ہوگئے ہیں اور قرض عیال چھوڑ گئے۔ آپ نے فرمایا کیا میں
    تمہیں اس چیز کی خوشخبری نہ سنائوں جس کے ساتھ
    اللہ تعالی تمہارے والد سے ملاقات کی عرض کیا کیوں
    نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے والد کے علاوہ ہر شخص
    سے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی لیکن تمہارے والد
    کو زندہ کر کے ان سے بالمشافہ گفتگو کی اور فرمایا اے
    میرے بندے تمنا کر۔ تو جس چیز کی تمنا کرے گا میں
    تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں قتل ہو
    جائوں۔
    اللہ تعالی نے فرمایا فیصلہ ہو چکا کہ کوئی دنیا میں واپس
    نہیں جائے گا۔
    راوی کہتے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی( جو لوگ اللہ کی راہ
    میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں
    اور اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں)۔

    (جامع ترمذی جلد نمبر 2 باب قرآن کی تفسیر کا بیان
    سورہ آل عمران کے متعلق حدیث نمبر 927 صفحہ 865)

    حدیث پر غور فرمائیں👇👇👇

    اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق پا رہے ہیں:۔

    رب عرش پر ہے👈 "تمہارا رب اللہ ہے جس نے چھ دن
    میں آسمانوں اور زمین کو بنایا اور پھر عرش پر مستوی ہو
    گیا" ( سورہ الاعراف/ یونس 54)

    جابر رضہ کے شہید والد عبداللہ نے عرش الہی کے نیچے اللہ پاک سے گفتگو کی اور التجا کی کہ،

    "اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ
    میں دوبارہ قتل ہو جائوں"

    غور👈 دوبارہ زندہ کر دے یعنی میری روح کو قبر کے اندر
    موجود جسم کے اندر لوٹا دے تاکہ میں زندہ ہو کر تیری
    راہ میں دوبارہ قتل کئے جائوں۔۔۔۔

    اللہ پاک کا جواب👈 کوئی دنیا میں واپس نہیں جائے گا.

    چاہے شہید ہو , نبی ہو , مومن ہو کسی کی بھی روح نہ ہی دنیا میں جائے گی اور نہ ہی
    جسم میں دوبارہ لوٹائ جائے گی

    علی بھاءی سے سوال:-

    اگر امام بیہقی کے وہ الفاظ عین قرآن و سنت کے مطابق
    ہیں پھر بتاءیں اللہ پاک نے شہداء کی التجا پوری کیوں
    نہیں کی؟ ان کی روحوں کو جسموں میں کیوں نہیں لوٹایا
    گیا؟؟؟؟؟

    علی بھاءی اگر ایک بابے نے قرآن و سنت کے خلاف اپنا
    عقیدہ لکھ دیا. آپ تو علی کتابی ہیں نہ کہ بابی کتابی.

    آپ نے امام بیہقی کے ان الفاظ کو قرآن و سنت کی روشنی میں رد کیوں نہیں کیا؟

    آپ نے بابی کتاب کو چھوڑ کر علمی کتاب ( قرآن و سنت) پر عمل کیوں نہیں کیا؟

    جواب دیں………

  16. me wahabi hoon mera aqeeda he k nabi sallaho alihi wasallam apni qabr e mubarak me zinda hein.unki zindgi qabri he,dunya ki nhi.un ulmaa ko doob marna chahye jo ambiyaa ki shann me gustakhi karty hein

Back to top button